ليبل جي لاءِ پوسٽس: نهج البلاغه
13/07/2014
نهج البلاغه پهرين حڪمت
ترجمو: پُر فتن دؤر ۾ اٺ
جي ان ٻچڙي وانگر ٿي رهه جنهن جي نه پٺي آهي جو سواري ڪري سگھجي ۽ نه ٿڻ جنهن مان
کير ڏهي سگھجي.
مختصر وضاحت
لبون کير ڏيڻ واري ڏاچي کي
چوندا آهن ۽ ابن لبون ان ڏاچي جي نر ڦَر کي چوندا آهن جيڪو پنهنجي عمر جا 2 سال
ختم ڪري ٽئي سال ۾ داخل هجي جيڪو ان عمر ۾ نه سواري جي قابل هوندو آهي ۽ نه وري ان
جا ٿڻ هوندا آهن جن مان کير ڏهي سگھجي.
اڳتي پڙهو »
24/06/2014
نهج البلاغه اکيسوين حکمت
تحریر : ساجد علی سبحانی
قُرِنَتِ
الْھَیْبَۃُ بِالْخَیْبَۃِ، وَالْحَیَاءُ بِالْحِرْمَانِ، وَالْفُرْصَۃُ تَمُرُّ
مَرَّ السَّحَابِ، فَانْتَھِزُوا فُرَصَ الْخَیْرِ
ترجمہ: مرعوبیت (خوف) کو
ناکامی سے اور حیاء (شرم) کو
محرومی سے ملا دیا گیا ہے ۔ اور
فرصت کےمواقع بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں
لہٰذا نیکیوں کی فرصت کو غنیمت جانو۔
تشریح:
حضرت ؑ کا یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے :
اڳتي پڙهو »
22/06/2014
نهج البلاغه ٽيويهين حڪمت
تحریر : ساجد علی سبحانی
کُنْ
سَمْحاً وَلَا تَکُنْ مُبَذِّراً، وَکُنْ
مُقَدِّراً وَلَا تَکُنْ مُقَتِّراً
ترجمہ:
سخاوت کرو لیکن فضول خرچی نہ کرو اور کفایت شعاری اختیار کرو لیکن بخیل نہ بنو۔
حضرت
ؑ نے اپنے اس قول میں ہمیں دو مھم چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے ایک سخاوت کرو اسراف
نہ کرو ۔ یے ایک مشکل امر ہے سخاوت اور اسراف میں جدا ئی ہونی چاہیے بہت انسان ہیں
جو سخاوت کے نام پے اپنا مال لتاتے ہیں جب کہ وہ اسراف کر رہے ہوتے ہیں اس لئے
حضرتؑ فرما رہے ہیں اے انسان خبردار سخاوت تو کرنا لیکن ایسا نہ ہو کہ سخاوت کے
نام پے اسراف کرتے پھرنا۔ دوسری مھم چیز، کفایت شعاری کرو لیکن بخیل مت بنو۔ یہاں
بھی اک مشکل امر ہے انسان اپنا مال بچاتا رہتا ہے اور کہتا ہے میں کیوں خرچ کروں کیوں
اسراف کروں جب کے اسراف تو کجا وہ اپنی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کرتا اور ضرورت
پر خرچ کرنا بھی اسراف کرنا سمجھ بیٹھتا ہے ایسے میں وہ سنبھال کے رکھا ہوا مال
کسی نہ کسی دن اس کی جان کا وبال بن جاتا ہے اور یے انسان اس مال کو امیدوں بھری
نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
اڳتي پڙهو »
21/06/2014
نهج البلاغه اٺين حڪمت
تحریر: ساجد علی سبحانی
پروردگارِ عالم نے بنی
نوع انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور
فرماتا ہے کہ اگر کوئی میری نعمتوں
کو گننا چاہے تو گن نہیں سکتا۔مال، دولت،
اولاد، صحت، شھرت، فرصت، خود انسان میں بھی لا تعداد نعمتیں پنھاں ہیں ہاتھ، پاؤں
، آنکھیں ، کان، غرض انسان کا ہر عضو ایک نعمت خدا ہے ۔پس ان تمام تر نعمات دینے
پر منعم کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
آٹھویں حکمت
قال علی علیہ السلام
اِعْجَبُوا لِھٰذَا الاِنْسَانِ
یَنْظُرُ بِشَحْمٍ ، وَ یَتَکَلَّمُ بِلَحْمٍ ، وَیَسْمَعُ بِعَظْمٍ ،
وَیَتَنَفَّسُ مِنْ خَرْمٍ!!!
ترجمہ: انسان کی
ساخت پرتعجب کرو کہ چربی کے ذریعہ دیکھتا ہے اور گوشت سے بولتا
ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور سوراخ سے سانس
لیتا ہے۔
تشریح: حضرت امیر
المومنین علیہ السلام اپنے اس قول کے
ذریعہ بنی نوع انسان کو ایک مرتبہ پھر
بیدار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں اور قدر تِ خدا کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ شاید یے
انسان اس طرح شکر خالق کی طرف متوجہ ہو
جائے ۔ وہ خالق جو کہ فرما رہا ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
والتین والزیتون ۔ و طور سینین ۔ و ھذا
البلد الامین۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم:
انجیر اور زیتون اور طور سینا اور اس امن والے شھر ( مکہ) کی قسم ہے کہ بیشک
ہم نے انسان کو اچھے انداز میں پیدا کیا ہے (سورہ التین آیات ۱ تا ۴)۔
حضرت ؑ نے پروردگار کی لا
تعداد نعمتیں جنہیں کوئی شمار ہی نہیں کر سکتا میں سے چار عظیم (۴) نعمتوں کی طرف اشارہ کیا
ہے۔(۱) شحم:
یعنی چربی۔ انسان چربی کے ذریعہ دیکھتا ہے
(۲) لحم
:یعنی گوشت ۔ انسان گوشت کے ذریعہ بولتا
ہے (۳) عظم:
یعنی ہڈی انسان ہڈی کے ذریعہ سنتا ہے (۴) خرم :یعنی سوراخ
انسان سوراخ کے ذریعہ سانس لیتا ہے۔ حضرت ؑ نے پروردگار کی نعمتوں میں سے
آنکھ ، زبان ، کان اور ناک کا ذکر کیا
ہے۔ اگر
دیکھا جائے تو خداوند کی ہر عطا کردہ چیز اک لا ذوال نعمت ہے مگر پروردگار کی
نعمتوں میں سےیے اپنا مقام رکھتی ہیں.
اڳتي پڙهو »
سبسڪرائب ڪريو
منهنجو بلاگ (RSS)

